نئی دہلی، 13/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیراعظم مودی کی ۷۲؍ رکنی کابینہ میں ۲۸؍ وزیرمجرمانہ ریکارڈ کے حامل ہیں جن میں سے ۱۹؍ کو سنگین قسم کے الزامات کا سامنا ہے۔ ۲؍ وزیر اقدام قتل کے کیس میں ماخوذ ہیں تو ۸؍ پر سماج میں نفرت پھیلانے کے الزام میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔ ۵؍ وزیر ایسے ہیں جن پر خواتین کے خلاف جرائم کا الزام ہے۔ یہ انکشاف پارلیمانی الیکشن کیلئے داخل کئے گئے مذکورہ اراکین کے حلف ناموں کے تجزیہ سے ہو اہے۔ مذکورہ وزیروں کے خلاف کچھ کیس زائداز ۵؍سال پرانے ہیں۔ اب تک کسی پر بھی کوئی جرم ثابت نہیں ہوا ہے البتہ جرم ثابت ہونے پر اگر ۲؍ سال سے زائد کی سزا ہوتی ہے تو وہ نہ صرف یہ کہ پارلیمنٹ کے ایوان کے رکن نہیں رہ جائیں گے بلکہ سزا کی تکمیل کے ۶؍ سال بعد تک الیکشن بھی نہیں لڑ سکیں گے۔ وزیر مملکت جارج کورین چونکہ ابھی لوک سبھا کیلئے منتخب نہیں ہوئے ہیں اس لئے ان کے حلف نامہ کا تجزیہ نہیں کیاگیا۔البتہ ۲۰۱۶ء میں کیرالا کے الیکشن کے وقت انہوں نے جوحلف نامہ داخل کیاتھا،اس کے مطابق کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔
مودی سرکار میں جن وزیروں کے خلاف سماج میں نفرت پھیلانے کی پاداش میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ان میں خود وزیر داخلہ امیت شاہ شامل ہیں جن کی بنیادی ذمہ داری پورے ملک میں نظم ونسق کو قائم رکھنا ہے۔ ان کے ۲؍ جونیئر وزیر (وزیرمملکت برائے داخلہ) نتیانند رائے اور بنڈی سنجے کمار کو بھی نفرت انگیزی کے مقدموں کا سامنا ہے۔ ان کے علاوہ وزیر صنعت گری راج سنگھ، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان، وزیر مملکت شانتانو ٹھاکور، وزیر مملکت برائے تعلیم سوکانتا مجومدار اور وزیر مملکت برائے محنت وروزگار شوبھاکرنڈ لاجے کو بھی نفرت انگیزی کے الزامات کا سامنا ہے۔
امیت شاہ اور نتیا نند رائے سمیت ان میں سے اکثر وزیروں کو اعلیٰ عدالتوں سے راحت مل چکی ہے۔ امیت شاہ پر ایف آئی آر مغربی بنگال میں ۲۰۱۹ء میں اس وقت درج ہوئی تھی جب انہوں نے کہاتھا کہ لوک سبھا الیکشن کے بعد ممتا بنرجی حکومت گر جائے گی جس کے بعد وہ لوگوں کو تشدد پر اُکسا سکتی ہیں۔ اُس سال مغربی بنگال سے بی جےپی نے ۱۸؍ سیٹیں جیتی تھیں جبکہ ٹی ایم سی کے حصے میں ۲۲؍ سیٹیں آئی تھیں۔نتیانند رائے کے خلاف ۲۰۱۸ء میں بہار کی اسمبلی کیلئے ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران ایف آئی آردرج ہوئی تھی۔انہوں نے ارریہ میں کہا تھا کہ ’’اگر آرجے ڈی امیدوار سرفراز عالم ارریہ سے الیکشن جیت گئے تو یہ علاقہ داعش کا اڈہ بن جائےگا۔‘‘عالم نے یہ الیکشن جیت لیا تھا۔ اسی طرح گری راج سنگھ جو بیگوسرائے سے لگاتار دوسری مرتبہ جیتے ہیں، نے ۲۰۱۹ء میں بیگوسرائے میں اپنی انتخابی مہم کے دوران کہاتھا کہ ’’جو وندے بھارت نہیں کہہ سکتے اور جو بھارت ماتا کی عزت نہیں کرسکتےانہیں ملک کبھی معاف نہیں کریگا۔ میرے آباؤ اجداد سمریہ گھاٹ میں مر گئے انہیں قبر کی ضرورت نہیں پڑی مگر تم لوگوں کو ۳؍ ہاتھ زمین چاہئے۔‘‘
مرکزی کابینہ میں داغی وزیروں کا فیصد ۲۰۱۹ء کے مقابلے بڑھ گیا ہے۔ ۲۰۱۹ء میں ۲۹؍ فیصد وزیر مجرمانہ ریکارڈ کے حامل تھے جبکہ ۲۰۲۴ء میں ۳۹؍ فیصد داغی وزیر ہیں۔ اس سے قبل ۲۰۱۴ء میں مرکزی کابینہ میں ۱۷؍ فیصد داغی وزیر تھے۔ مالی لحاظ سے دیکھیں تو مرکزی کابینہ کے ۹۹؍ فیصدوزیر کروڑ پتی ہیں۔ مودی کے علاوہ ۷۱؍ وزیروں کی اوسط ملکیت ۱۰۷ء۹۴؍ کروڑ روپے ہے۔ ۶؍ وزیروں نے اپنے حلف نامہ میں بتایا ہے کہ وہ ۱۰۰؍ کروڑ سے زائد کی ملکیت کے مالک ہیں۔